نئی دہلی،27؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) ایک طرف جہاں ملک کی مختلف ریاستوں میں ہجومی قتل (ماب لنچنگ) کا سلسلہ تھمنے کانام نہیں لے رہا ہے وہیں دوسری طرف وزیر اعظم نریندرمودی کے بیانات سے شرپسندوں اور انتہا پسندوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں - دہلی کے بعد جھارکھنڈ میں مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرڈالنے کی آواز 2 روز قبل راجیہ سبھا میں گونجی لیکن زبردست جیت سے مغرور حکمران طبقے نے اسے مذاق کا موضوع بنادیا -گذشتہ روز ہریانہ میں واقع گرو گرام (گڑگاؤں) ایک مرتبہ پھر ہجومی تشدد کا گواہ بنا ہے- واقعہ منگل کا ہے جب دو لوگوں کو گؤکشی کے الزام میں پیٹ پیٹ کر زخمی کر دیا گیا- میڈیا ذرائع کے مطابق گروگرام کے سبھاش چوک سے راجیو چوک کے درمیان دو پِک اَپ وین کو ’گؤ رکشا دَل‘ کے لوگوں نے روک لیا اور اس میں گائے کا گوشت ہونے کے شبہ پر گاڑی ڈرائیوروں کی زبردست پٹائی شروع کر دی- دونوں ہی زخمی مسلمان ہیں جن کا علاج اسپتال میں چل رہا ہے-وہیں بہارکے مغربی چمپارن ضلع کے منگلپور تھانہ علاقہ کے رہنے والے انظار احمد(45) کی بھی چہارشنبہ علاج کے دوران موت ہوگئی جنہیں گذشتہ 10 مہینے قبل انتہا پسندوں نے پیٹ پیٹ کر اس وقت ادھ مرا کردیا تھا جب وہ تبلیغی جماعت میں گئے ہوئے تھے - ایک رپورٹ کے مطابق انظار احمد ایک تبلیغی جماعت کے ساتھ منگل پور تھانہ کے بڑھیا ٹولہ علاقہ میں تھے -جماعت نے وہاں کی ایک مسجد میں قیام کیا تھا۔ مسجد میں بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے انظار اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ رفع حاجت کے لئے باہر نکلے۔ لیکن راستہ میں دھار دار ہتھیاروں کے ساتھ6-5بھگوا دہشت گردوں نے انہیں دبوچ لیا اور مذہبی شناخت کی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ دریں اثنا حملہ آوروں نے ان کی داڑھیوں کو نوچا اور بری طرح سے انہیں زدوکوب کیا گیا۔ تیز دھار ہتھیاروں سے تینوں پر حملہ کیا گیا، انظار کی بائیں آنکھ کے نیچے گہرا زخم لگا جس کے سبب اس سے بے تحاشہ خون نکلا۔انظار احمد سعودی عرب میں ملازمت کرنے کے بعد 7-8 سالوں سے گاؤں میں ہی رہ رہے تھے۔ وہ یہاں کھیتی باڑی کر تے تھے۔ علاوہ ازیں وہ تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ تھے-گاؤں کے لوگوں نے ان کی شناخت رنجیت پانڈے، دھریندر پانڈے اور رام ناتھ پانڈے کے طور پر کی تھی۔نوتن تھانہ سے ملی اطلاع کے مطابق اس معاملہ میں ایف آئی آر 20 اگست 2018 کو درج کی گئی تھی، جس کا کیس نمبر 437/18 ہے۔ یہ ایف آئی آر دفعہ 341، 323، 324، 307، 504، 506 وغیر کے تحت درج کی گئی ہے۔ پولیس نے دو ملزموں کو گرفتار کیا تھا لیکن دو تین مہینے گزارنے کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے-ان تمام دردناک واقعات کے درمیان ملک کے وزیراعظم کا راجیہ سبھا میں بیان اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کیلئے حوصلہ شکن ہے -صدر کے خطاب پر بحث کا راجیہ سبھا میں جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جھارکھنڈ میں ماب لنچنگ کے واقعہ کا ذکر کیا-انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ میں نوجوان کی موت انتہائی دکھ بھری ہے، لیکن اس کے لئے پورے جھارکھنڈ کو کٹہرے میں کھڑا کرنا درست نہیں -ساتھ ہی انہوں نے کہ کہا کہ ہر تشدد پر ہمارا ایک معیار ہو-سب کی حفاظت کی ضمانت ہمارا فرض ہے-پی ایم مودی نے کہاکہ جھارکھنڈ میں لنچنگ کے واقعہ سے مجھے دکھ ہوا-اس سے دوسروں کو بھی دکھ پہنچا ہوگا- لیکن کچھ لوگوں نے راجیہ سبھا میں جھارکھنڈ کو لنچنگ کا مرکز کہا تھا-کیا یہ صحیح ہے؟ وہ ایک صوبہ کی توہین کیوں کر رہے ہیں -ایک ماب لنچنگ کے واقعہ کے بعد پورے جھارکھنڈ کو بدنام کرنے کا حق ہمارے پاس نہیں ہے-قصورواروں کو سخت سزا ملنی چاہئے- ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ جرم ثابت ہونے پر مناسب راستہ قانون اور عدالتی کارروائی سے ہوناچاہیے-تشدد کے واقعہ چاہے جھارکھنڈ میں ہو یا پھر مغربی بنگال میں ہو یا پھر کیرلا میں ہو، ہمارا سب کے لئے ایک ہی معیار ہونا چاہئے-تبھی تشدد کو ہم روک پائیں گے اور تب ہی تشدد کرنے والوں کو سبق ملے گا کہ اس ایک معاملے پر پورا ملک ایک ہے-